﷽
اسلامی تصور تعلیم کی خصوصیات / مقاصد
مختلف نظریہ حیات رکھنے والی اقوام یا معاشرے کے اپنے تعلیمی مقاصد/خصوصیات ہوتی ہیں ۔جن کو وہ تعلیم کے ذریعے اپنی اپنی نسلوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں
اسلامی تعلیم کی درج ذیل نمایاں خصوصیات/مقاصد ہیں۔
عبودیت کا شعور
اسلام کے نزدیک سب سے بڑی قدر اللہ تعالی کی عبادت ہے ۔اس لیے تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہوگا کہ افراد معاشرہ میں عبودیت کا شعور راسخ کیا جاٸے۔
قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے
" اور انسانوں ،جنوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔
(فکر آخرت کی نشوونما)
یہ دنیا چند روزہ اور عارضی ہے مومن اپنی اصلی زندگی ،آخرت پر اپنی نظریں مرکوز رکھتا ہے اور اسی کے لیے تیاری کرتا ہے ۔
آپﷺکا فرمان ہے۔
" دنیا آخرت کی کھیتی ہے " جو جیسا بوٸے گا ویسا ہی کاٹے گا ۔انسان کے اعمال کا بدلہ قیامت کے دن ملے گا ، اس لیے مومن پر لازم ہے کہ دنیا میں نیک اعمال کرے برے کاموں سے اجتناب کرے ۔اللہ کے احکامات بجالاٸے تاکہ وہ آخرت میں سرخرو اور کامیاب ہو ۔لٰہذا تعلیم کا یہ مقصد ہو نا چاہیے کہ بچے کو نیکی کی طرف راغب کیا جاٸے اور برے کاموں سے نفرت پیدا کی جاٸے تاکہ وہ اگلی دنیا میں جنت کا حقدار بنیں۔
(منصب خلافت کی اہلیت )
مقاصد تعلیم کا ایک پہلو انسان کےمنصب خلافت سے تعلق رکھتا ہے ۔
(افراد معاشرہ کی قیادت عالم کے لیے تیاری )
تعلیم کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ افراد معاشرہ کو دنیا کی قیادت کے لیے تیار کیا جاٸے اس لیے ضروری ہو گا کہ افراد معاشرہ یعنی طلبا میں کاٸنات کے وساٸل اور قوتوں کا علم و شعور پیدا کیا جاٸے اور انھیں اللہ کی زمین پر اللہ کی حاکمیت کےقیام کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاٸے ۔
(کامیاب دنیاوی زندگی )
اسلام ترک دنیا کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اسلام میں تمام دنیاوی امور اگر احکامات الٰہی کے مطابق ہیں تو وہ بھی عین عبادت ہیں۔ تعلیم کا مقصد فرد کو دنیا کی زندگی کے لیے تیار کرنا بھی ہے ۔ معاشی خوشحالی کی بدولت وہ دوسروں کے کام آسکے گا اور اس طرح دین کی طرف سے عاٸد فراٸض ادا کر سکے گا۔
(ساٸنسی اندازِ فکر)
ہمارا دین ہر قسم کے اوہام و خرافات کا مخالف ہے ۔تعلیم کا یہ فرض ہے کہ وہ بچوں میں ساٸنسی انداز فکر پیدا کرے تاکہ وہ ہر بات کو عقل اور تجربے کی کسوٹی پر رکھیں اور باطل نظریات سے بچیں۔
شکریہ
2 تبصرے
Good
جواب دیںحذف کریںGood
جواب دیںحذف کریںپلیز کومنٹس کر کے حوصلہ افزاٸی ضرور کریں