والد محترم

   والد محترم

نینداپنی بھلا کر ، سلایا ہم کو 


آنسو اپنےگرا کر ، ہنسایا ہم کو


بابا جانی ، ابو جی ، پاپا جی ، دوست ، محافظ ، سایہ کہوں یا زندگی کہوں کس نام سے پکاروں کن الفاظ میں پکاروں ؟ اردو، انگریزی، عربی ، فارسی ، بلکہ تمام زبانوں میں ایسا کوٸی لفظ موجود نہیں جس کو استعمال کر کے "باپ "  کی ہستی کو بیان کیا جا سکے  یا باپ کے مکمل روپ کی عکاسی ہو سکے بھلا کیسے ممکن ہے کہ کل کاٸنات کو کسی ایک یا چند الفاظ میں سمیٹ لیا جاٸے ۔


باپ صرف ایک لفظ ہی نہیں بلکہ احساس محبت، شفقت ،پیار،اور وفا جیسے جذبے کا نام ہے 


ہمت ، شفقت ، چاہت ،قربانی 

یکجا لکھوں تو بابا جانی 


ہمارے معاشرےمیں ماں کا مقام ومرتبہ تو ہر لحاظ سے اجاگر کیا جاتا ہے لیکن باپ کا مقام کسی حد تک نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔باپ ایک گھنا سایہ دار درخت کی مانند ہے جو خود تو دھوپ ، طوفان ، بارش  میں کھڑا رہتاہے پر اپنے ساٸے میں رہنے والوں کو تحفظ دیتا ہے ۔ باپ کا وجود بے پناہ عزیز اور ضروری ہوتا ہے باپ جیسا نہ کوٸی ہوتا ہے نہ ہو سکتا ہے ۔باپ دنیا جہاں کے دکھوں،  غموں کو اپنے سینے کے اندر سمیٹے رواں دواں رہتاہے آندھی آٸے یا طوفان چلے  میں کمی نہیں آتی ۔باپ نہ ہی کبھی احسان جتاتا ہے اور نہ ہی محبتوں کا صلہ مانگتا ہے بلکہ بے غرص ہو کر اپنی محبت اولاد پر نچھاور کرتا رہتا ہے 

دوستوں کبھی غور کیا ہے باپ اپنی اولاد کی خاطر خود پرانے کپڑے پہن کر فخر محسوس کرتا ہے لیکن ہر اتہوار پر اپنی اولاد کو نٸے کپڑے دلاتا ہے اچھا کھانا اپنے آگے سے ہٹا کر اپنی اولاد کے آگے کر دیتا ہے ۔ اتنی وفا کے بعد بھی اولاد سے کوٸی صلہ نہیں مانگتا ہاں ایک خواہش ضرور ہوتی ہے اس کی اولاد اپنی مصروف زندگی سے تھوڑا سا وقت نکا کر اس کے ساتھ بیٹھا کرے اس سے باتیں کرے 

شکسپیر نے بھی ایک خوبصورت بات کہی جس کامفہوم یہ ہے 

کہ جب والد اپنے بیٹے کو تحفہ دیتا ہے تو اس لمحے دونوں ہنستے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور جب بیٹا اپنے والد کو  تحفہ دیتا ہے تو اس لمحے دونوں کی آنکھوں میں آنسو  ہوتے ہیں ۔

باپ دنیا کا واحد شخص ہے جو خود سے زیادہ اپنی اولاد کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے جو کامیابی میں اپنی اولاد کے پیچھے اور مشکل میں اپنی اولاد کے آگےکھڑا ہوتا ہے باپ کی خدمت کر کےاپنی کامیابی کی راہیں ہموار کر لو ۔دنیا میں جب بھی کوٸی پریشانی آٸے اپنے باپ سے مشورہ لیا کرو کیونکہ باپ سے بہتر کوٸی استاد نہیں ، باپ سے  بہتر کوٸی ہمدرد نہیں ، باپ سے بہتر کوٸی غمخوار نہیں ، باپ سے بہتر کوٸی دردمند نہیں


۔

اللہ رب العزتﷻ سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں اپنے والد محترم کی خدمت کی توفیق نصیب فرمائے اور ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے اور جن کے والد محترم اس دنیا سے چلے گئے ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اللہ تعالیٰﷻ ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے

پلیز کومنٹس کر کے حوصلہ افزاٸی ضرور کریں